سوچنے کی عادت سے عاری قوم
مصنف چودھری شکور
نوجوان دُکھی بھی تھا اور غصے میں بھی تھا ،کہنے لگا سعودی عرب سمیت مڈل ایسٹ کے ممالک دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شمار کئے جاتے ہیں ان کے علاوہ پچاس سے زیادہ مسلمان ملک دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کے پاس بہترین فوج بھی ہے لیکن ان سب کے ہوتے ہوئے اسرائیل نے نہتے فلسطینیوں پر ظلم کی انتہا کردی ہے آخریہ سب ممالک یا ان میں سے بڑے اسلامی ممالک اسرائیل پر حملہ کیو ں نہیں کر دیتے یا اسرائیل کو ان ممالک کا ڈر خوف کیوں نہیں ہے ۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ میں نے اسے کہا اس کی وجہ ہے کہ ہم لوگوں میں سوچنے سمجھے اور غور و حوض کرنے کی عادت نہیں ہے ۔ میرے جواب کو اس نے غیر متعلقہ اور بے محل سمجھ کر کرسی پر کروٹ بدلی اور مجھے گھورتے ہوئے بولا میں آپ کو ایک سمجھدار اور سنجیدہ آدمی سمجھتا ہوں ، لیکن میرےسوال کے ساتھ آپ کے جواب کا کیا تعلق ہے ۔آپ کےاس جواب کا فلسطین سے کیا تعلق ہے۔میں نے اسے کہا کہ اسرائیل کی دیدہ دلیری اور مسلمان ملکوں کی بے حسی اور بے عملی کی ا صل وجہ یہ ہےکہ مسلمانوں کے پاس ٹیکنالوجی نہیں ہے اور نتیجتاً ان کے پاس موجودہ حالات کے مطابق مطلوبہ اپنا اسلحہ اور جنگی آلات نہیں ہیں اس لئے یہ طاقت ور نہیں ہیں جبکہ غیر مسلم اکثر ممالک کے پاس جدید ترین اسلحہ اور بے پناہ طاقت ہے اس لئے مسلم ممالک اکٹھے ہوکر بھی اسرائیل اور اس کے حمائیتی ممالک کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس لئے سب کے سب مسلمان ممالک خاموشی سے یہ ظلم دیکھنے پر مجبور ہیں ۔ اور سنو یہ جو ٹیکنالوجی ہے ناں اس کیلئے سوچنے کی عادت ضروری ہےاب نوجوان کو میرے جواب کا کچھ کچھ ربط اس کے سوال کے ساتھ جڑتا نظر آیا۔ میں نے کہا کہ دنیا کے بڑےبڑے عجائبات جن کو آپ دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں یہ بھی کسی کی سوچ کا نتیجہ ہیں ۔ تاج محل بھی پہلے کسی کے ذہن میں بنا تھا ، پیسا ٹاور بھی کسی کے ذہن میں ابھرا تھا ۔ ایفل ٹاور کو بھی کسی نے اپنے ذہن میں ہی سوچا تھا۔سیب کے گرنے پر بھی کسی نے غور کرتے ہوئے کشش ثقل کو دریافت کیا تھا کڑکتی آسمانی بجلی پر بھی کسی نے سوچا تھا اور اسےمسخر کیا تھاالغرض دنیا میں جو بھی ایجادات ہوئی ہیں کسی نہ کسی نے پہلے ان پر سوچا، غور و حوض کیا ان کے اسباب تلاش کئے اور پھرسمجھنے کے بعد ان کو ایجادات کی شکل دی ۔ سوچنے سمجھنے اور عمل کرنے کا تعلق کسی رنگ نسل یا مذہب سے نہیں ہے جس کسی نے بھی سوچا ،غور کیا ، سمجھا اور پھر اس پر عمل کیا محنت کی، اس نے مسئلے کا حل نکال لیا اور انسانی سہولت یا اپنے دفاع کیلئے سامان بنالیا۔ مسلمانوں نے جب تک سوچنا سمجھنا اور غور و فکر کرنا جاری رکھا سائنسی ایجادات کیں اور دنیا کے بڑے حصے پر حکمرانی کی لیکن جب مسلمانوں میں سے سوچنے کی عادت ختم ہوئی تو مسلمانوں کا زوال شروع ہو گیاجوتھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا اور پھر آپ نے یہ تو سنا ہوگا کہ” ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات “۔ اب نوجوان گہری سوچ میں گم میری باتیں غور سے سن رہا تھا ۔ میں نے کہا جس دن ہم سوچنے کی عادت انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر اپنا لیں گےہم پھر دوباره ترقی کرنا شروع کر دیں گے اس لئےسوچنے کی عادت ہمیں بچپن سے ہی بچوں کو ڈالنی پڑے گی بچوں کو کھل کر سوال کرنے دیں ۔ ان کے سوالوں کی حوصلہ افزائی کریں ان کو اپنے ارد گرد موجود چیزوں اور واقعات کے بارے میں سوچنے اور سمجھنے کے مواقع دیں ان کو سمجھنے میں مدد دینے کیلئے ان کے سوالوں کے ٹھیک ٹھیک جواب دیں ۔ لیکن ہوتا کیا ہے کہ ہم بچوں کےسوالوں کو اہمیت ہی نہیں دیتے اور جھڑک کرخاموش کروا دیتے ہیں۔ ان کو جلد از جلد امتحان پاس کرنے اورپیسہ کمانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ہمارا نظامِ تعلیم بھی ایسا ہے کہ جس میں رٹہ سسٹم کا دور دورہ ہے امتحانوں میں اچھے نمبر لینے کیلئے شارٹ کٹ ، خلاصہ جات ، گیس پیپر اور نوٹس کا سہارا لیا جاتا ہے۔میں اپنی زندگی کے تجر بےسے یہ کہہ سکتا ہوں کہ بچےتو بچے بڑوں میں بھی سوچنے سمجھنے اور غور کرنے کی عادت کا فقدان ہے ۔ دفتروں میں لیٹر پڑھنے اور اس پر غور کرنے کا رواج نہیں ، بڑے افسران جن کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے عام طور پر فایل پڑھنے کی بجاے ماتحتوں سے پوچھ کر فیصلے کرتے ہیں، میکینک سےگاڑی چیک کروایٔیں تو بغیر سوچے سمجھے کہہ دے گا فلاں پرزہ خراب ہو گیا ہے نیا ڈلوا لیں، وکیل اور ڈاکٹر کے پاس کیس سننے اورسمجھنےکا وقت نہیں ہوتا۔ میں مذاق میں لوگوں سے کہا کرتا ہوں کہ یار اسی دنیا میں دماغ کا استعمال کر لیں اس کو سمبھال کر نہ رکھیں آخرت میں زیرو میٹر دماغ لے جانے کا کویٔ ثواب نہیں ملنااور جنت میں شاید اس کی اتنی ضرورت ہی نہ پڑے، اس لیۓ اپنے دماغ کو اسی دنیا میں زیادہ سے زیادہ خرچ کریں۔لیکن ہمارے ہاں لوگوں کی اکثریت سپون فیڈ نگ کی عادی ہے ہم لوگ جو سنتے ہیں بغیر سوچے سمجھے،من و عن اسے تسلیم کر لیتے ہیں اور اسی سے اپنی رائے قائم کر لیتے ہیں ،اپنے ذہن کوغور کرنے کی زحمت نہیں دیتے اورسنی سنایٔ باتیں ہی آگے پھیلاتے رہتے ہیں اسی صورت حال کو میں نے اپنی پنجابی نظم کے اس شعر میں یوں بیان کیا ہے،
بہُتے لوکی ٹیپ ر یکارڈر وانگ،اوہناں اندر کیسٹ چلدی اے
جو سُندے نیں اوہی بولدے نیں، پر آپ نیٔیں کردے غور
اللہ تعالی نے قرآن پاک میں کئی جگہ پر فرمایا ہے کہ “افلا تفکرون “لیکن یہ غور نہیں کرتے ، “افلا تدبرون ” لیکن یہ تدبر نہیں کرتے۔
البتہ ایک بات کا خیال رکھیں کہ سوچنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وقت سوچوں میں گم رہا جاۓ، زیادہ سوچنا (overthinking) بھی اچھی بات نہیں ، یہ ایک بیماری ہے اس سے بچیں۔کسی بھی معاملے پر اتنا ہی سوچیں کہ اس کی سمجھ آ جاۓ اور اس پر ٹھیک راۓقایٔم کرنا اور عمل کرنا آسان ہو جاۓ۔ یہ بھی سچ ہے کہ قوم میں سوچنے سمجھنے اور غور کرنے کی عادت ڈالنا کوئی آسان کام نہیں ہے اس کے لئے انفرادی سطح پر والدین اور اساتذہ کو بچوں میں سوچنے سمجھنے اور غور کرنے کی عادت ڈالنی پڑے گی اور ملکی سطح پرصاحبان اقتدار کو اخلاص کے ساتھ پہلے خود سوچنا ہوگا اور پھرقابل عمل لائحہ عمل بنا نا ہوگا ۔اسی نقطۂ نظر سے سکولوں کا نصاب بنانا ہوگا ، میڈیا کو اس کام میں شامل کرنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر ملک میں امن اور یقین کا ماحول بنانا ہوگا تا کہ بنائی گئی پالیسیوں پرتسلسل کے ساتھ عمل جاری رہے اور مطلوبہ نتائج برآمد ہوں ۔اس عادت کو قومی عادت بنانے کیلئے کئی سالوں کا سازگار ماحول اور محنت درکارہو گی تب کہیں ہم دوسری قوموں کی طرح ٹیکنالوجی اور دوسرے شعبوں میں ترقی کر سکیں گے اور ان کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوں گے ورنہ ہم سوچ سمجھ سے عاری قوم فلسطین جیسے مظالم پر کڑھتے رہیں گے۔اور اپنے ملک کو کوستے رہیں گے اور یہاں سے بھاگنے کے جائز ناجائز طریقے نکالتے رہیں گےاس لئے سوچئے، ابھی بھی وقت ہے۔